Daily Din News
سموسے کا تعلق کس ملک سے ہے پتہ چل گیا

سموسے کا تعلق کس ملک سے ہے پتہ چل گیا


برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق سموسے کا تعلق ایران کی قدیم سلطنت سے ہے۔ سموسہ برصغیر اسی راستے پہنچا جس راستے سے دو ہزار برس پہلے آریائی نسل کے لوگ بھارت پہنچے تھے۔ سموسہ ہندوستان میں وسطی ایشیا کی پہاڑیوں سے گزرتے ہوئے پہنچا جس علاقے کو آج افغانستان کہتے ہیں۔ افریقی سیاح ابن بطوطہ نے محمد بن تغلق کے دربار میں ہونے والی عظیم الشان ضیافت میں فراہم کیے گئے سموسے کا ذکر کیا ہے۔ انھوں نے سموسے کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ قیمہ اور مٹر بھرا ہوا پتلی پرت والا پیسٹری تھا۔ سموسہ فارسی زبان کے ’سنبوساگ‘ سے ماخوذ ہے۔ سموسے کا ذکر پہلی بار گیارہویں صدی کے فارسی مورخ ابو الفضل بیہقی کی تحریروں میں ملتا ہے۔ ابو الفضل بیہقی نے اپنی تحریروں میں غزنوی سلطنت کے شاہی دربار میں پیش کی جانے والی ’نمکین پیسٹری‘ کا ذکر کیا ہے جس میں قیمہ اور خشک میوہ بھرا جاتا تھا۔ اس پیسٹری کو اس وقت تک پکایا جاتا تھا جب تک کہ وہ خستہ نہ ہو جائے۔ لیکن مسلسل بر صغیر آنے والے تارکین وطن نے سموسے کی طرز اور رنگ کو بدل کر رکھ دیا۔ سولہویں صدی میں پرتگالیوں کی طرف سے آلو لائے جانے کے بعد سے برصغیر میں سموسے میں اس کا استعمال شروع ہوا۔


متعلقہ خبریں