Daily Din News
تازہ ترین خبر
آن لائن اخبار کی ویب سائٹ
پانامہ لیکس،سیف اللہ فیملی کا موقف بھی سامنے آگیا
کرکٹ آسٹریلیا نے نیا کنٹریکٹ حاصل کرنے والی ویمن کرکٹرز پر ڈالرز کی بارش کردی
سعودی عرب سے غیر ملکیوں کیلئے خوشخبری آگئی
پی ٹی آئی کا پھر اعلان حکومت کیلئے نئی پریشانی
عامر خان نے6ماہ میں کچھ ایسا کیا کہ سب حیران رہ گئے
شا ہ سلمان مصر کے تاریخی دورے پر قاہرہ پہنچ گئے
معافی ‘نہیں
امریکا نے خطرناک حکم جاری کر دیا
ہم جنس پرستوں پر عذاب
حملہ آور کی شناخت‘ذمہ دار سامنے نہ آئے
9/11حملوں میں سعودی عرب ملوث نہیں‘امریکا
طور خم کشیدگی برقرار‘میجرعلی جواد شہید
طورخم پر دشمن کے دانت کھٹے
مرضی سے گیٹ لگائیں گے
طور خم بارڈر کھل گیا
لاہور میں بڑا خطرہ
ڈومور کا مطالبہ زیادتی ہے‘ آئی ایس پی آر
مقبوضہ کشمیر‘خودکش حملہ‘8بھارتی فوجی جہنم واصل
13 خود کش بمبار آ گئے
کوئٹہ: ڈبل روڈ پر فائرنگ سے 4 ایف سی اہلکار شہید
کراچی: دو روز کی بارش نے حکومت کی کارکردگی کا پول کھول دیا
یہودی فرقہ اسرائیل کے قیام کا ہی مخالف
ٹیلی وژن سکرینوں پر یہ نمبرز کیوں نمودار ہوتے ہیں؟
پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع
سموسے کا تعلق کس ملک سے ہے پتہ چل گیا

سموسے کا تعلق کس ملک سے ہے پتہ چل گیا


برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق سموسے کا تعلق ایران کی قدیم سلطنت سے ہے۔ سموسہ برصغیر اسی راستے پہنچا جس راستے سے دو ہزار برس پہلے آریائی نسل کے لوگ بھارت پہنچے تھے۔ سموسہ ہندوستان میں وسطی ایشیا کی پہاڑیوں سے گزرتے ہوئے پہنچا جس علاقے کو آج افغانستان کہتے ہیں۔ افریقی سیاح ابن بطوطہ نے محمد بن تغلق کے دربار میں ہونے والی عظیم الشان ضیافت میں فراہم کیے گئے سموسے کا ذکر کیا ہے۔ انھوں نے سموسے کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ قیمہ اور مٹر بھرا ہوا پتلی پرت والا پیسٹری تھا۔ سموسہ فارسی زبان کے ’سنبوساگ‘ سے ماخوذ ہے۔ سموسے کا ذکر پہلی بار گیارہویں صدی کے فارسی مورخ ابو الفضل بیہقی کی تحریروں میں ملتا ہے۔ ابو الفضل بیہقی نے اپنی تحریروں میں غزنوی سلطنت کے شاہی دربار میں پیش کی جانے والی ’نمکین پیسٹری‘ کا ذکر کیا ہے جس میں قیمہ اور خشک میوہ بھرا جاتا تھا۔ اس پیسٹری کو اس وقت تک پکایا جاتا تھا جب تک کہ وہ خستہ نہ ہو جائے۔ لیکن مسلسل بر صغیر آنے والے تارکین وطن نے سموسے کی طرز اور رنگ کو بدل کر رکھ دیا۔ سولہویں صدی میں پرتگالیوں کی طرف سے آلو لائے جانے کے بعد سے برصغیر میں سموسے میں اس کا استعمال شروع ہوا۔


متعلقہ خبریں