Daily Din News
تازہ ترین خبر
آن لائن اخبار کی ویب سائٹ
پانامہ لیکس،سیف اللہ فیملی کا موقف بھی سامنے آگیا
کرکٹ آسٹریلیا نے نیا کنٹریکٹ حاصل کرنے والی ویمن کرکٹرز پر ڈالرز کی بارش کردی
سعودی عرب سے غیر ملکیوں کیلئے خوشخبری آگئی
پی ٹی آئی کا پھر اعلان حکومت کیلئے نئی پریشانی
عامر خان نے6ماہ میں کچھ ایسا کیا کہ سب حیران رہ گئے
شا ہ سلمان مصر کے تاریخی دورے پر قاہرہ پہنچ گئے
معافی ‘نہیں
امریکا نے خطرناک حکم جاری کر دیا
ہم جنس پرستوں پر عذاب
حملہ آور کی شناخت‘ذمہ دار سامنے نہ آئے
9/11حملوں میں سعودی عرب ملوث نہیں‘امریکا
طور خم کشیدگی برقرار‘میجرعلی جواد شہید
طورخم پر دشمن کے دانت کھٹے
مرضی سے گیٹ لگائیں گے
طور خم بارڈر کھل گیا
لاہور میں بڑا خطرہ
ڈومور کا مطالبہ زیادتی ہے‘ آئی ایس پی آر
مقبوضہ کشمیر‘خودکش حملہ‘8بھارتی فوجی جہنم واصل
13 خود کش بمبار آ گئے
کوئٹہ: ڈبل روڈ پر فائرنگ سے 4 ایف سی اہلکار شہید
کراچی: دو روز کی بارش نے حکومت کی کارکردگی کا پول کھول دیا
یہودی فرقہ اسرائیل کے قیام کا ہی مخالف
ٹیلی وژن سکرینوں پر یہ نمبرز کیوں نمودار ہوتے ہیں؟
پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع
ماہ صیام سے وابستہ پرانی روایات دم توڑنے لگیں

ماہ صیام سے وابستہ پرانی روایات دم توڑنے لگیں


ماہ صیام آتے ہی سعودی عرب میں ماہ مقدس سے وابستہ روحانی روایات بھی یک دم سے زندہ ہوجاتی تھیں مگراب آہستہ آہستہ سعودی معاشرے میں پائی جانے والی تاریخی روحانی روایات بھی دم توڑ رہی ہیں۔سعودی عرب میں ثقافت وفنون آرگنائزیشن کے سابق چیئرمین سلمان الفائز کے مطابق ماہ مقدس کی روحانیات ایک ایک کرکے آنکھوں سے اوجھل ہو رہی ہیں، کہیں کچھ روایات زندہ ہیں تو وہ گھروں کے اندر تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں ورنہ پرانے دور میں ماہ رمضان کے آتے ہی ایسی روایات اپنائی جاتی تھیں جن سے ماہ صیام کے جلوہ فگن ہونے کا اندازہ ہوتا تھا جو سعودی معاشرے کا اجتماعی خاصہ ہوا کرتی تھیں۔سلمان الفائز کا کہنا ہے کہ جدہ، مدینہ منورہ، ینبع، مکہ مکرمہ اور طائف شہروں میں ماہ صیام کی روحانی کیفیات تازہ کرنے کے لیے تقریبات ہوا کرتی تھیں، لوگ کھلے میدانوں میں قیام اللیل کا اہتمام کرتے اور روزہ کی روحانیت کو اپنے اندر محسوس کرنے کی کوشش کرتے تھے، کسی دور میں سحری کے اوقات میں بیدار کرنے والے ’مسحراتی‘ ہوا کرتے اور کئی شہروں میں رمضان توپ ہوتی تھی جس سے ماہ صیام کی آمد واختتام کا اعلان اس سے گولہ داغ کرکیا جاتا تھا۔ ماہ صیام کی روحانی روایات کے دم توڑنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب رمضان المبارک کی روحانی کیفیات پر سوشل میڈیا کا غلبہ ہے، اب عید اور رمضان کی آمد کی خوشی گھروں کے اندر تک محدود ہوگئی ہے جب کہ باہر بالکل ہو کا عالم ہے۔


متعلقہ خبریں