Daily Din News
10 ہزار کواڈریلیئن ڈالر کا سیارچہ

10 ہزار کواڈریلیئن ڈالر کا سیارچہ

ناسا نے 2022 میں پلاٹینم اور سونے سے بنے سیارچے ایسٹرائڈ کی جانب ایک خلائی جہاز روانہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ ناسا کے مطابق سیارچہ سونے اور پلاٹینم سے بنا ہے جس میں فولاد اور نِکل بھی شامل ہے۔ ناسا کے مطابق ایسٹرائڈ پر تحقیق سے خود نظامِ شمسی کی تاریخ جاننے میں مدد مل سکے گی۔ ناسا نے سیارچے پر بھیجے جانے والے خلائی جہاز کو ڈسکوری مشن کا نام دیا ہے جسے 2022 میں زمین سے بھیجا جائے گا اور وہ 4 سال بعد 2026 میں ایسٹرائڈ تک پہنچے گا، سیارچے کو ’ 166 سائیکے‘ کا نام دیا گیا ہے جو سونے، چاندی اور  پلاٹینم سے مالا مال ہے۔ ماہرین اس کی مالیت کا اندازہ لگانے سے قاصر ہیں تاہم خیال ہے کہ یہ خلا میں تیرتا ہوا خزانہ ہے جس کی مالیت کا تخمینہ 10 ہزار کواڈریلیئن ڈالر لگایا گیا ہے جو 1,000,000,000,000,000,000,0 ڈالر کے برابر ہے۔16سائیکے قیمتی دھاتوں کا ایک مجموعہ ہے ۔ اسی بنا پر سرمایہ کار حضرات اسے حسرت سے دیکھ رہے ہیں لیکن اس سیارچے کو زمین تک لانا اتنا مہنگا ہو گا کہ خود زمین کا سارا معاشی نظام تباہ ہو کر رہ جائے گا۔ یہ سونے سے بنا سیارچہ لندن ٹاور سے دوگنا بڑا ہے اور اس پر 5 ٹریلین ڈالر کا سونا موجود ہے۔



متعلقہ خبریں