Daily Din News
 قومی سلامتی سے متعلق غلط خبر شائع‘ کمیٹی کا قیام‘ دشمنوں کو چارج شیٹ‘ پروپیگنڈہ کرنے کا موقع ملا‘وزیر داخلہ

قومی سلامتی سے متعلق غلط خبر شائع‘ کمیٹی کا قیام‘ دشمنوں کو چارج شیٹ‘ پروپیگنڈہ کرنے کا موقع ملا‘وزیر داخلہ


اسلام آباد‘قومی سلامتی سے متعلق غلط خبر شائع کرنے پر وزیرقانون زاہد حامد کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی گئی جو غیر رسمی معاملے کا جائزہ لے گی۔ ‘ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ صحافی سرل المیڈا کے معاملے پر سچ سامنے آنا چاہیے۔ کل میں نے سی پی این اے اور اے پی این ایس کے عہدیداروں کو دعوت دی ہے۔ سرل المیڈا کے معاملے پر حکومت کا موقف ان کے سامنے رکھوں گا۔نجی ٹی وی کے مطابق قومی سلامتی سے متعلق غلط خبر شائع کرنے پر وزیرقانون زاہد حامد کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی گئی ہے جو غیر رسمی معاملے کا جائزہ لے گی جب کہ کمیٹی اس حوالے سے 2،3 لوگوں سے انکوائری کررہی ہے۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ صحافی سے بیان ریکارڈ کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا لیکن وہ تعاون نہیں کررہے جب کہ انکوائری مکمل ہونے تک ان لوگوں کو کہیں بھی جانے نہیں دیں گے۔یہاں پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے چودھری نثار کا کہنا تھا کہ اگر وزیر داخلہ ہونے کے باوجود میں غلط خبر دوں تو اس پر میں بھی جوابدہ ہوں۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ صحافی کی جانب سے سیکیورٹی معاملے پر غلط خبر لیک کی گئی۔ خبر کے حوالے سے صحافی نے جتنے لوگوں سے رابطہ کیا انہوں نے اس خبر کی تردید کی تاہم اس کے باوجود صحافی نے خبر پر قائم رہنے کا ٹویٹ کر دیا۔ اگر سب نے خبر کی تردید کر دی تھی تو اس کو کیوں نشر کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ من گھڑت خبر کے ذریعے قومی سلامتی کے معاملے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی جس کی انکوائری کی جائے گی۔ اس خبر سے ہمارے دشمنوں کو چارج شیٹ کرنے اور بھارت کو پروپیگنڈہ کرنے کا موقع ملا۔ چودھری نثار نے واضح کیا کہ کسی پاکستانی کو ای سی ایل میں ڈالنے سے پہلے تحقیقات کی جاتی ہیں لیکن خبر میڈیا میں نشر ہونے کے کچھ گھنٹوں بعد پتہ چلا کہ صحافی بیرون ملک جا رہا ہے۔ اگر صحافی بیرون ملک چلا جاتا تو ہم پر الزام لگنا تھا کہ حکومت نے خود خبر لیک کروائی اور باہر بھیج دیا۔ انہوں نے بتایا کہ صحافی سرل المیڈا کے علاوہ دو، تین بندے اور بھی انکوائری کا حصہ ہیں، ان کو بھی بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں ہے۔ انکوائری چار دن میں ختم ہو جائے گی، پھر سب کو آزادی ہوگی۔ صحافی پر کسی قسم کا کوئی دباو¿ نہیں ہے لیکن خبر کی انکوائری کی جائے گی۔ 

 


متعلقہ خبریں