Daily Din News
تازہ ترین خبر
آن لائن اخبار کی ویب سائٹ
پانامہ لیکس،سیف اللہ فیملی کا موقف بھی سامنے آگیا
کرکٹ آسٹریلیا نے نیا کنٹریکٹ حاصل کرنے والی ویمن کرکٹرز پر ڈالرز کی بارش کردی
سعودی عرب سے غیر ملکیوں کیلئے خوشخبری آگئی
پی ٹی آئی کا پھر اعلان حکومت کیلئے نئی پریشانی
عامر خان نے6ماہ میں کچھ ایسا کیا کہ سب حیران رہ گئے
شا ہ سلمان مصر کے تاریخی دورے پر قاہرہ پہنچ گئے
معافی ‘نہیں
امریکا نے خطرناک حکم جاری کر دیا
ہم جنس پرستوں پر عذاب
حملہ آور کی شناخت‘ذمہ دار سامنے نہ آئے
9/11حملوں میں سعودی عرب ملوث نہیں‘امریکا
طور خم کشیدگی برقرار‘میجرعلی جواد شہید
طورخم پر دشمن کے دانت کھٹے
مرضی سے گیٹ لگائیں گے
طور خم بارڈر کھل گیا
لاہور میں بڑا خطرہ
ڈومور کا مطالبہ زیادتی ہے‘ آئی ایس پی آر
مقبوضہ کشمیر‘خودکش حملہ‘8بھارتی فوجی جہنم واصل
13 خود کش بمبار آ گئے
کوئٹہ: ڈبل روڈ پر فائرنگ سے 4 ایف سی اہلکار شہید
کراچی: دو روز کی بارش نے حکومت کی کارکردگی کا پول کھول دیا
یہودی فرقہ اسرائیل کے قیام کا ہی مخالف
ٹیلی وژن سکرینوں پر یہ نمبرز کیوں نمودار ہوتے ہیں؟
پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع
5کروڑ پاکستانی ”پاگل“قرار

5کروڑ پاکستانی ”پاگل“قرار

 
کراچی‘ پاکستان میں تقریباً 5 کروڑ افراد مختلف قسم کے ذہنی امراض کا شکار ہیں جن میں بالغ افراد کی تعداد ڈیڑھ سے ساڑھے تین کروڑ کے قریب ہے اور یہ کل آبادی کا 10 سے 20 فیصد حصہ بنتا ہے۔کراچی پریس کلب میں دماغی صحت کے موضوع پر ہونے والے مذاکرے میں آغاز خان یونیورسٹی (اے کے یو)کے محکمہ نفسیات کی چیئرپرسن ڈاکٹر عائشہ میاں نے کہا کہ ’تقریباً 2 کروڑ بچوں کو ذہنی امراض کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز کی توجہ کی ضرورت ہے‘۔مذاکرے کا انعقاد عالمی یوم برائے دماغی صحت کی مناسبت سے کیا گیا جو ہر سال 10 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ڈاکٹر عائشہ نے مزید کہا کہ یہ تاثر عام ہے کہ دماغی بیماری میں مبتلا شخص پر تشدد ہی ہوگا، دوسروں سے مختلف نظر آئے گا اور وہ کبھی ٹھیک نہیں ہوسکتا اور نہ ہی معاشرے کا کارآمد شہری بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’اس طرح کے گمراہ کن مفروضات کا انتہائی منفی اثر ان لوگوں پر ہوتا ہے جو اپنی اس کیفیت سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں‘انہوں نے بتایا کہ ’تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دماغی امراض میں مبتلا افراد ممکنہ طور پر کسی نہ کسی طرح ستائے ہوئے ہوتے ہیں نہ کہ وہ دوسروں کو ستاتے ہیں، میڈیا کو آگے آنا چاہیے اور معاشرے میں موجود متعصبانہ رویے کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے‘ڈاکٹر عائشہ نے کہا کہ اہل خانہ، دوست احباب اور معاشرے کا ان لوگوں کی زندگی میں انتہائی اہم کردار ہوتا ہے جو دماغی بیماری سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، انہیں مثبت رویے اور ان کی اس حالت کے ساتھ قبول کیے جانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی یہ ہے کہ ملک بھر میں محض 400 تربیت یافتہ ماہر نفسیات موجود ہیں۔
 


متعلقہ خبریں