Daily Din News
 تحریکِ انصاف، عوامی تحریک کی ریلیاں‘حکومتی کنٹینرز ‘ شہری عذاب میں رہے‘بی بی سی

تحریکِ انصاف، عوامی تحریک کی ریلیاں‘حکومتی کنٹینرز ‘ شہری عذاب میں رہے‘بی بی سی


لاہور(بی بی سی رپورٹ)سنیچر کو پاکستان میں حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف، عوامی مسلم لیگ اور پاکستان عوامی تحریک نے لاہور اور راولپنڈی میں حکومت کے خلاف ریلیاں نکالیں جو پارٹی کے سربراہان کے خطاب کے بعد منتشر ہوگئیں۔ حکومت کی جانب سے دونوں شہروں میں کنٹینرز اور رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔پاکستان تحریک انصاف کے احتساب مارچ کی قیادت عمران خان نے کی اور یہ مارچ لاہور کے علاقے شاہدرہ سے شروع ہو کر پنجاب اسمبلی چیئرنگ کراس تک پہنچا۔عمران خان نے اپنے خطاب میں ایک بار پھر وزیراعظم نواز شریف پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ وزیراعظم نے مختلف اداروں میں کرپٹ لوگوں کو بھرتی کیا ہوا ہے اور وہ میڈیا ہاو¿سز کو بھی پیسے دینے کی کوشش کرتے ہیں۔انھوں نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے تاکہ وہ بیرونِ ملک نہ جا سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر پاناما لیکس سے متعلق بنائے جانے والے ٹی او آرز میں شامل اپوزیشن کے چار سوالات کے جوابات نہ دیے گئے تو وہ عید کے بعد رائے وینڈ کا رخ کریں گے انھوں نے کہا کہ وزیراعظم کو یہ بتانا ہوگا کہ انھوں نے لندن کے فلیٹ کیسے خریدے لیٹر دکھائیں، فلیٹ خریدنے کے لیے پیسہ بیرونِ ملک کیسے بھجوایا بینک کے ذریعے یا منی لانڈرنگ کی، اور بتائیں کہ انھوں نے ٹیکس ادا کیا یا نہیں۔ان ریلیوں اور ان کے راستے میں کنٹینرز موجود تھے اور لاہور اور راولپنڈی میں راستے بند تھے جس کے باعث ہسپتال پہنچنے میں تاخیر سے ایک خاتون اور ایک بچہ فوت ہو گئے۔پاکستان عوامی تحریک کے رہنما ڈاکٹر طاہر القادری نے مری روڈ کے علاقے رحمٰن آباد پر کارکنان سے خطاب میں کہا کہ 17 جون 2014 کو ماڈل ٹاو¿ن میں پولیس کے ہاتھوں مارے جانے والے کارکنوں کے قاتلوں کو ابھی تک سزا نہیں ملی ہے۔انھوں نے کہا کہ ہمیشہ ان کی جماعت نے پرامن احتجاج کیا ہے اور انصاف نہ ملنے تک یہ احتجاج ایسے ہی جاری رہے گا اور تین مراحل کا ابتدائی مرحلہ آج کی ریلی تھا۔’ہمارے پاس دو آپشن ہیں جاتی عمرہ اور اسلام آباد۔‘تاہم اپنے خطاب کے بعد وہ واپس لوٹ گئے اور یوں ان کی قصاص ریلی اختتام پذیر ہوئی‘راولپنڈی کی انتظامیہ کی جانب سے فیض آباد سے لیاقت باغ تک تمام داخلی راستوں کو کینٹینرز لگا کر بند کیاگیا۔شیخ رشید کی رہائش گاہ لال حویلی کی جانب جانے والے تمام راستے بھی سیل کردیے گئے جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔



 


متعلقہ خبریں