Daily Din News
تازہ ترین خبر
آن لائن اخبار کی ویب سائٹ
پانامہ لیکس،سیف اللہ فیملی کا موقف بھی سامنے آگیا
کرکٹ آسٹریلیا نے نیا کنٹریکٹ حاصل کرنے والی ویمن کرکٹرز پر ڈالرز کی بارش کردی
سعودی عرب سے غیر ملکیوں کیلئے خوشخبری آگئی
پی ٹی آئی کا پھر اعلان حکومت کیلئے نئی پریشانی
عامر خان نے6ماہ میں کچھ ایسا کیا کہ سب حیران رہ گئے
شا ہ سلمان مصر کے تاریخی دورے پر قاہرہ پہنچ گئے
معافی ‘نہیں
امریکا نے خطرناک حکم جاری کر دیا
ہم جنس پرستوں پر عذاب
حملہ آور کی شناخت‘ذمہ دار سامنے نہ آئے
9/11حملوں میں سعودی عرب ملوث نہیں‘امریکا
طور خم کشیدگی برقرار‘میجرعلی جواد شہید
طورخم پر دشمن کے دانت کھٹے
مرضی سے گیٹ لگائیں گے
طور خم بارڈر کھل گیا
لاہور میں بڑا خطرہ
ڈومور کا مطالبہ زیادتی ہے‘ آئی ایس پی آر
مقبوضہ کشمیر‘خودکش حملہ‘8بھارتی فوجی جہنم واصل
13 خود کش بمبار آ گئے
کوئٹہ: ڈبل روڈ پر فائرنگ سے 4 ایف سی اہلکار شہید
کراچی: دو روز کی بارش نے حکومت کی کارکردگی کا پول کھول دیا
یہودی فرقہ اسرائیل کے قیام کا ہی مخالف
ٹیلی وژن سکرینوں پر یہ نمبرز کیوں نمودار ہوتے ہیں؟
پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع
 اٹلی ‘ زلزلے متاثرین کیلئے 2500 لکڑی کے گھر تیار کرنے کا منصوبہ

اٹلی ‘ زلزلے متاثرین کیلئے 2500 لکڑی کے گھر تیار کرنے کا منصوبہ


روم‘اٹلی کی حکومت 24 اگست کے زلزلے کے متاثرین کے لیے اگلے تین ماہ میں 2500 لکڑی کے گھر تیار کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔اٹلی کے میڈیا کے مطابق ان خیمہ نما لکڑی کے گھروں کے ڈیزائن کو خیموں یا شپنگ کنٹینروں پر ترجیح دی جا رہی ہے جن کو سنہ 2009 کے زلزلے کے بعد اونا میں استعمال کیا گیا تھا۔بدھ کے روز آنے والے چھ اعشاریہ دو کی شدت کے زلزلے سے اماترس اور روم کے شمال مشرق میں پہاڑی علاقے میں واقع دو دیگر شہروں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی۔خیال رہے کہ اس زلزلے میں 209 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔اٹلی کے وزیر اعظم متیو رینزی نے اتوار کے روز ملک کے ایک مشہور ارکیٹیکٹ رینزو پیانو سے ملاقات کی اور ان سے تعمیر نو کے کام کے بارے میں بات چیت کی۔حکام کو اب اس چیلنج کا سامنا ہے کہ وہ کس طرح زلزلہ متاثرین کو سردیوں سے پہلے محفوظ اور آرام دہ رہائش گاہوں میں منتقل کر سکتے ہیں۔اٹلی کے اطالوی زبان کے اخبار کوریئر دلا سیرا کا کہنا ہے کہ لکڑی کے گھر لوگوں کے تباہ شدہ گھروں کے قریب تعمیر کیے جائیں گے کیونکہ زیادہ تر متاثرین وہیں منتقل ہونا چاہتے ہیں۔نوتعمیر شدہ خیمہ بستیوں کے باوجود کچھ متاثرین اپنے گھروں کے قریب پارک شدہ گاڑیوں میں سونے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ انھیں ڈر ہے کہ ملبے تلے دبا ان کا قیمتی سامان چوری ہو سکتا ہے۔
 


متعلقہ خبریں